Haseena
Poet: ASAD ALI ASAD By: ALI ASAD, SIALKOTPal Bhar Ke Liye ,Nazar Us Se Lari Thi
Sar E Raah Jab Haseena Jab Mujh Se Mili Thi
Suraj Ki Laali Ke Se Rukhsaar The Uske
Chanda Ki Tarha Se Chamakti Jabee Thi
Phel Gai Thi Khushbu Hawao'n Main Chaaro Orh
Jo Hawa Tere Jism Ko Choo Kar Chali Thi
Kuch Samj Nahi Aata K Kya Naam Doo Usko
Husn Ki Malika Thi K Paristaa K Pari Thi
Kitne Hi Shah Zor Us Din Dher Ho Gaye
K Teri Shokh Nazr Jin Jin Pe Pari Thi
Pheli Hui Thi Ghup Tareekiya Jahan Main
Mere Gird To Sitaro Ki Lari Thi
Anmol Tohfa Hai Tu Zameen Par Khuda Ka
Qudrat K Hatho Se Tu Fursat Main Bani Thi
Qayamt Ka Naam Logo Se Suna Tha Maine
Dil Se Uthi Sada Asad Haa Yeh Wohi Thi
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






