شرم وحیا کا طور جلانا پڑا مجھے
Poet: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی By: ابنِ مفتی سید ایاز مفتی, houstonآنکھوں میں اک جزیرہ بسانا پڑا مجھے
اک سیل ضبط خود ہی بنانا پڑا مجھے
پاتا میں نور ِ وصل کی کیسے تجلیاں
شرم وحیا کا طور جلانا پڑا مجھے
اس مرکزِ نگاہ سے ملنے کے واسطے
رسماً سبھی سے مِلنا ، مِلانا پڑا مجھے
کون و مکاں کی سیر کو للچا گیا جو دل
براق یارو فکر کا لانا پڑا مجھے
اسکی اجل نگاہ کا رکھنا تو تھا بھرم
اس واسطے بھی جان سے جانا پڑا مجھے
تھا خواب کو جو رنگ ِ حقیقت میں دیکھنا
تعبیر سے بھی ہاتھ مِلانا پڑا مجھے
اس جان ِ جاں سے دوستی جاں سے عزیز تھی
دشمن جہان سارا بنانا پڑا مجھے
آرام گاہ پر مری آیا وہ اس طرح
باہَر نکل کے قبر سے آنا پڑا مجھے
میدان ِدل میں دیکھ کے یلغارِ آرزو
ہتھیار خود پہ خود ہی اُٹھانا پڑا مجھے
انداز اسکی ہاں کا ، اگرچہ تھا منفرد
مہنگا مگر اے مفتی وہ “نا ” “نا” پڑا مجھے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






