شدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
Poet: Dr.Zahid sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanشدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
مجھ کو اس حال میں اب چین آ نہیں سکتا
زندگی ایک نئے موڑ پہ آ ٹھہری ہے
لوٹ کر پھر انہی راہوں پہ جا نہیں سکتا
اب امنگوں کے گلابوں کا نہیں ہے موسم
اب محبت بھرے نغمات گا نہیں سکتا
آج مایوسی مری حد سے بڑھی جاتی ہے
آج اپنے لیے کچھ بھی تو پا نہیں سکتا
موت ہے سامنے اور سانس رکی جاتی ہے
زندگی جا تجھے واپس میں لا نہیں سکتا
درد سہہ سہہ کے خود اک درد بنا جاتا ہے
اب مسیحا سے بھی دل بس میں آ نہیں سکتا
شدت درد کی کچھ تاب لا نہیں سکتا
مجھ کو اس حال میں اب چین آ نہیں سکتا
نوٹ:- چند سال ہوئے دل کے آپریشن سے کچھ دیر پہلے
اسپتال میں یہ غزل کہی تھی جسے اب ساتھیوں کی
نذر کرتا ہوں۔۔۔
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






