چا ہت
Poet: naila rani By: naila rani, karachiاک شخص کو ا تنا چا ہا تھا اندر سے ٹو ٹ کر چا ہا تھا
اس شخص نے مجھکو توڑ د یا اندر سے ا تنا توڑ د یا
اک دید چا ہی تھی اسکی ہمیشہ کے لیئے ر خ مو ڑ لیا
ا سکی بے ر خی کا غم نہیں اس نے یاد بھی کر نا چھوڑ د یا
چا ند تو دا غدا ر ہے وہ آ فتا ب کی ما نند نکلتا تھا
ا سے د یکھ کے آ نے جا نے وا لے آ ہیں بھر تے ر ہتے تھے
وہ شخص کتنا اکیلا تھا مجھ سے بھی ز یا دہ تنہا تھا
مجھے د یکھ کے اس نے گھا ئل کیا اور ز خم گہرا ہو تا گیا
د نیا کے سا ر ے بحر اب اسی سمندر میں گر تے ر ہتے ہیں
آنسو مو تی بن بن کر ہیر ے جوا ہر بنتے ر ہتے ہیں
دن را ت سمیٹتی ر ہتی ہوں اب ا پنے درد غنیمت کو
کہ و قت کی کا لی را تو ں میں درد پر و تی ر ہتی ہو ں
جا نے کیو ں اسکی خا طر خیا لو ں میں رو تی رہتی ہو ں
اک شخص کو ا تنا چا ہا تھا اندر سے ٹو ٹ کر چا ہا تھا
اس شخص نے مجھکو توڑ د یا اندر سے ا تنا توڑ د یا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






