شام ہوتے ہی مرا درد سوا ہو جاۓ
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, eading UKشام ہوتے ہی مرا درد سوا ہو جاۓ
کاش یوں ہو مرا احساس فنا ہو جاۓ
اُس کو محسوس کروں چھوُ نہ سکوں پر اُس کو
کہیں ایسا نہ ہو وہ شخص خدا ہو جاۓ
زہر بن کر جو گھلا جاۓ مری سوچوں میں
ہو بھی سکتا ہے وہی درد دوا ہو جاۓ
ڈوب کر توُ کبھی اُبھرے نہ مری آ نکھوں سے
کتنا اچھا ہو جو یوں جانِ وفا ہو جاۓ
تان دینا تو مرے سر پہ وفا کا آ نچل
جو مرا سر کبھی محرومِ ردا ہو جاۓ
ہم نہیں کرتے وفا کیشی کا دعو یٰ لیکن
جان جاتی ہے جو وہ ہم سے خفا ہو جاۓ
وہ بھی اِنساں ہے فرشتہ تو نہیں ہے عذراؔ
بخش دینا جو کبھی اُس سے خطا ہو جاۓ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






