بات بے بات مِری آ نکھ جو بھر آ تی ہے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKبات بے بات مِری آ نکھ جو بھر آ تی ہے
بات اِ تنی سی نہیں جتنی نظر آ تی ہے
آپ ہی آپ گذ ر جاتے ہیں دِن رات مرے
زندگی مجھ کو کہاں کرنی بسر آ تی ہے
آپ بیزار ہیں مجھ سے تو کویٔ بات نہیں
کویٔ جب دور چلا جاۓ قدر آ تی ہے
سامنے ان کے زباں کھلنے نہ پاۓ شاید
بات کرنی مجھے اے دیدۂ تر آ تی ہے
اُن کے آنے سے بدل جاتا ہے منظر سارا
ایک رونق سی مرے گھر میں اُتر آ تی ہے
جب بھی آ تی ہے مجھے یاد زمانے کی جفا
ایک تلخی سی مرے لہجے میں در آ تی ہے
اِتفاقا'' تو نہ تھی اُن سے ملاقات مری
اُن کے کوچے میں مری راہگزر آ تی ہے
چاہیۓ اُن کو قدم دھیرے سے رکھیں عذراؔ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






