سلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا
Poet: ساحل By: ساحل, Karachiسلا کر تیز دھاروں کو کنارو تم نہ سو جانا
روانی زندگانی ہے تو دھارو تم نہ سو جانا
مجھے تم کو سنانی ہے مکمل داستاں اپنی
ادھوری داستاں سن کر ستارو تم نہ سو جانا
تمہارے دائرے میں زندگی محفوظ رہتی ہے
نظام بزم ہستی کے حصارو تم نہ سو جانا
تمہیں سے جاگتا ہے دل میں احساس روا داری
قیام ربط باہم کے سہارو تم نہ سو جانا
اگر نیند آ گئی تم کو تو چشمے سوکھ جائیں گے
کبھی غفلت میں پڑ کر کوہسارو تم نہ سو جانا
تمہیں سے بحر ہستی میں رواں ہے کشتیٔ ہستی
اگر ساحل بھی سو جائیں تو دھارو تم نہ سو جانا
صدائے درد کی خاطر تمہیں کوثرؔ نے چھیڑا ہے
شکستہ ساز کے بیدار تارو تم نہ سو جانا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






