کوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا
Poet: ذیشان By: ذیشان, Rawalpindiکوئی حسیں منظر آنکھوں سے جب اوجھل ہو جائے گا
مجھ کو پاگل کہنے والا خود ہی پاگل ہو جائے گا
پلکوں پہ اس کی جلے بجھیں گے جگنو جب مری یادوں کے
کمرے میں ہوں گی برساتیں گھر جنگل ہو جائے گا
جس دن اس کی زلفیں اس کے شانوں پر کھل جائیں گی
اس دن شرم سے پانی پانی خود بادل ہو جائے گا
جب بھی وہ پاکیزہ دامن آ جائے گا ہاتھ مرے
آنکھوں کا یہ میلا پانی گنگا جل ہو جائے گا
اس کی یادیں اس کی باتیں اس کی وفائیں اس کا پیار
کس کو خبر تھی جینا مشکل ایک اک پل ہو جائے گا
مت گھبرا اے پیاسے دریا سورج آنے والا ہے
برف پہاڑوں سے پگھلی تو جل ہی جل ہو جائے گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






