زیست کیوں تیرے پیاروں کو سزا ملتی ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاجب کبھی درد کے ماروں کو سزا ملتی ہے
زیست کیوں تیرے پیاروں کو سزا ملتی ہے
ان کا شیوا ہے جو گلشن سے وفائیں کرنا
جاتے جاتے بھی بہاروں کو سزا ملتی ہے
شمع جلتی ہے کسی اور کے غم میں لیکن
اس کے پہلو میں ہزاروں کو سزا ملتی ہے
کچھ تو ان خاک نشینوں پہ کرو کرم میاں
کیوں یہ ان خاک کے تاروں کو سزا ملتی ہے
جو بھی تہذیب و تمدن کی یہاں بات کرے
اس کی آنکھوں کے اشاروں کو سزا ملتی ہے
جب بھی اترا ہے یہ اشکوں کا سمندر وشمہ
چشم دریا کے کناروں کو سزا ملتی ہے
More Love / Romantic Poetry
ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ ہم نے چاہا تھا جسے دل کی ہے ہر اک صدا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
وقت نے کر دیا ہے آخر کو ہم سے جدا وہ
بات سچ کہہ دی تھی تو مجھ سے خفا ہو بیٹھا
مگر کتنی نازک سی تھی دل کی اس کی ادا وہ
راہِ الفت میں قدم رکھ کے یہ جانا ہم نے
اپنی ہر ایک خطا خود ہی بن جاتی سزا وہ
ہم نے مانگا نہیں کبھی اس سے محبت کے عوض
پھر بھی دل میں رہا ہمیشہ اک ان کہا سا گِلا وہ
دل کے ویران نگر میں جو صدا دیتا تھا
آج خاموش کھڑا ہے وہی اہلِ صدا وہ
میں نے چاہا تھا بس خاموش رہوں، سب دیکھوں
وہ مگر پڑھ گیا ہے آنکھوں سے میری دعا وہ
لوگ کہتے ہیں کہ آسان ہے بھلا دینا بھی
ہم نے مانا ہی نہیں دل سے کبھی یہ ادا وہ
مظہرؔ اس دور میں سچ بولنا آساں نہ رہا
اپنا کہلا کے بھی دے جاتا ہے زخمِ جفا وہ
MAZHAR IQBAL GONDAL
مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی مغموم اگر ہوں میں تو رنجیدہ ہے وہ بھی
الجھا ہوں کسی سوچ میں پیچیدہ ہے وہ بھی
کچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر
میں سوچ رہا ہوں میاں سنجیدہ ہے وہ بھی
آسودگی کے بعد کے منظر سے ہیں واقف
ڈرتا ہوں اب اُس لطف سے لرزیدہ ہے وہ بھی
میں اس کے گماں میں ہوا فرسودہ بجا ہے
شاداب نہیں ہے میاں بوسیدہ ہے وہ بھی
کچھ ہو رہا تھا ہو چکا باہوں کی تپش میں
میرا جنوں بھی ٹل گیا خوابیدہ ہے وہ بھی
جو سوچ بدن سے کبھی ہونٹوں پہ نہ آئی
اس سوچ کی تاثیر سے شرمندہ ہے وہ بھی
الجھا ہوں کسی سوچ میں پیچیدہ ہے وہ بھی
کچھ کرنا ہے اب عشق کی معراج کے خاطر
میں سوچ رہا ہوں میاں سنجیدہ ہے وہ بھی
آسودگی کے بعد کے منظر سے ہیں واقف
ڈرتا ہوں اب اُس لطف سے لرزیدہ ہے وہ بھی
میں اس کے گماں میں ہوا فرسودہ بجا ہے
شاداب نہیں ہے میاں بوسیدہ ہے وہ بھی
کچھ ہو رہا تھا ہو چکا باہوں کی تپش میں
میرا جنوں بھی ٹل گیا خوابیدہ ہے وہ بھی
جو سوچ بدن سے کبھی ہونٹوں پہ نہ آئی
اس سوچ کی تاثیر سے شرمندہ ہے وہ بھی
Syed Neer Muqeet my
تَن کے ساتھ سائے بھی، چھن گئے زمانے میں تَن کے ساتھ سائے بھی، چھن گئے زمانے میں
ہم وفا نبھاتے تھے، لوگ تھے فسانے میں
دل کے زخم گہرے ہیں، ہنستے ہیں مگر اب بھی
غم چھپا کے رکھنا ہے، رسم ہے خزانے میں
اک چراغ امیدوں، مظہرؔؔ نے جلایا تھا
رات بھر وہ جلتا ہے، تیرگی کے خانے میں
ہم کو جن پہ ناز تھا، چھوڑ کر چلے وہ بھی
کتنے خواب ٹوٹے ہیں، ایک ہی بہانے میں
زندگی کی راہوں میں، تنہائیاں جیتی ہیں
ہم نے درد رکھّا ہے، مسکراہٹوں شانے میں
لوگ زخم دیتے ہیں، پھر سوال کرتے ہیں
کیا سکوت اچھا تھا، یا خلش دکھانے میں؟
ہم وفا نبھاتے تھے، لوگ تھے فسانے میں
دل کے زخم گہرے ہیں، ہنستے ہیں مگر اب بھی
غم چھپا کے رکھنا ہے، رسم ہے خزانے میں
اک چراغ امیدوں، مظہرؔؔ نے جلایا تھا
رات بھر وہ جلتا ہے، تیرگی کے خانے میں
ہم کو جن پہ ناز تھا، چھوڑ کر چلے وہ بھی
کتنے خواب ٹوٹے ہیں، ایک ہی بہانے میں
زندگی کی راہوں میں، تنہائیاں جیتی ہیں
ہم نے درد رکھّا ہے، مسکراہٹوں شانے میں
لوگ زخم دیتے ہیں، پھر سوال کرتے ہیں
کیا سکوت اچھا تھا، یا خلش دکھانے میں؟
MAZHAR IQBAL GONDAL
دل اپنا بہلتا ہے اب جھوٹے بہانے سے دل اپنا بہلتا ہے اب جھوٹے بہانے سے
ڈرتا ہے بہت اب تو یہ سنگِ زمانے سے
ہم نے تو چھپائے ہیں سب زخم جگر اپنے
کیا فائدہ اب ان کو دنیا سے چھپانے سے
حالات کی تپش نے اب ہم کو جلایا ہے
بچتا ہے بھلا کوئی اس آگ جلانے سے
تنگ آ کے محبت میں اب ہم نے یہی سوچا
شکوے ہیں بہت اپنے بے درد زمانے سے
رزقِ حلال کی خاطر دن رات جو پھرتے ہیں
عزت ہی تو ملتی ہے یہ رزق کمانے سے
مظہر یہاں تیروں کے ہم بن گئے ہیں مرکز
بچتا ہے بھلا کوئی اس تیز نشانے سے
ڈرتا ہے بہت اب تو یہ سنگِ زمانے سے
ہم نے تو چھپائے ہیں سب زخم جگر اپنے
کیا فائدہ اب ان کو دنیا سے چھپانے سے
حالات کی تپش نے اب ہم کو جلایا ہے
بچتا ہے بھلا کوئی اس آگ جلانے سے
تنگ آ کے محبت میں اب ہم نے یہی سوچا
شکوے ہیں بہت اپنے بے درد زمانے سے
رزقِ حلال کی خاطر دن رات جو پھرتے ہیں
عزت ہی تو ملتی ہے یہ رزق کمانے سے
مظہر یہاں تیروں کے ہم بن گئے ہیں مرکز
بچتا ہے بھلا کوئی اس تیز نشانے سے
MAZHAR IQBAL GONDAL
“خاموش دل کی صدا” اکیلے لمحوں میں محبوب کی یاد رہی
محبت کے ہر درد نے دل کو جکڑ لیا
۲۔ خاموشیوں نے سب کچھ سن لیا
پر دل کی صدا صرف تم تک پہنچی
۳۔ ہر رات تنہائی میں خوابوں کا سفینہ ٹوٹا
اور دل کی لہر نے چپکے سے فسانہ سنایا
۴۔ زخمِ محبت نے لبوں کو خاموش رکھا
پر دل کی دھڑکن نے تمہارے نام گایا
۵۔ یاد میں تمہاری ہر لمحہ اشکوں میں ڈوب گیا
میرا دل تمہاری خاموشی کے دریا میں بہ گیا
۶۔ تمہاری خوشبو نے ہر گوشہ چھوا
پر دل کی صدا پھر بھی تنہا رہی
۷۔ ایک امید باقی تھی، دل کے کونے میں چھپی
تمہارے خیال نے ہر غم کو چھپا لیا
۸۔ اور آخری صدا، دل کے اندر گونجی
میری محبت کی ہر آہ نے تمہیں اپنا کہہ کر، ہر پل تمہاری یاد میں جیا
محبت کے ہر درد نے دل کو جکڑ لیا
۲۔ خاموشیوں نے سب کچھ سن لیا
پر دل کی صدا صرف تم تک پہنچی
۳۔ ہر رات تنہائی میں خوابوں کا سفینہ ٹوٹا
اور دل کی لہر نے چپکے سے فسانہ سنایا
۴۔ زخمِ محبت نے لبوں کو خاموش رکھا
پر دل کی دھڑکن نے تمہارے نام گایا
۵۔ یاد میں تمہاری ہر لمحہ اشکوں میں ڈوب گیا
میرا دل تمہاری خاموشی کے دریا میں بہ گیا
۶۔ تمہاری خوشبو نے ہر گوشہ چھوا
پر دل کی صدا پھر بھی تنہا رہی
۷۔ ایک امید باقی تھی، دل کے کونے میں چھپی
تمہارے خیال نے ہر غم کو چھپا لیا
۸۔ اور آخری صدا، دل کے اندر گونجی
میری محبت کی ہر آہ نے تمہیں اپنا کہہ کر، ہر پل تمہاری یاد میں جیا
Muhammad Ramzan






