زمیں پہ آ کے رہا
Poet: رشید حسرت By: رشید حسرت, کوئٹہہزار پیار کے نغمے میں گُنگُنا کے رہا
مگر جو حرف تھا آنا وہ مُجھ پہ آ کے رہا
نِکال باپ نے گھر سے مُجھے کیا باہر
وہ میرا دوست تھا میں اُس کے گھر میں جا کے رہا
اڑا جو ضِد پہ کبھی بچپنے سے اب تک مَیں
پہُنچ سے دُور اگر کوئی تھا تو پا کے رہا
خُود اپنی کرنی تھی، میں نے صِلہ بھی پایا ہے
نِکالا خُلد سے حق نے، زمِیں پہ آ کے رہا
اندھیرا شہر تھا دِل یہ، اُداسِیوں کا گھر
پِھر اُس کے بعد مِلے تُم تو جگمگا کے رہا
بلوچ قوم کے بچّے ہُوئے ہیں گم ایسے
ہر ایک شخص یہاں ہائے سٹپٹا کے رہا
بچا کے دِل کی زمِیں کو رکھا تھا میں نے رشِیدؔ
غموں کا ابر مِرے آسماں پہ چھا کے رہا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






