زمانہ بھر میرا دشمن ھے
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas اپنے آنچل میں کہیں چھپا لو مجھ کو
زمانہ بھر میرا دشمن ھے بچالو مجھکو
سب نے توڑا ھے رشتہ الفت مجھ سے
ھے امید کوئی تجھسے یار نبھا لو مجھکو
ایک آوارا مسافر ہوں بے سر و سامان
زمانے بھر سے دھکارا ہوں سنبھالو مجھکو
کہیں ایسا نہ ہو کہ تم بھی پھیر لو نظریں
اور جہان بھر کی نظرون میں گرا لو مجھکو
دل یہ توڑا ھے کسی نے کھلونا جان کر اپنا
بکھرا ہوں ٹکڑون کی صورت اٹھا لو مجھکو
ایک انمول خزانہ ہوں یار اسد الفت کا
کہیں ایسا نہ ہو دیکھ یار گنوا لو مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






