عشق کے رنگ
Poet: اسد جھنڈیر By: اسد جھنڈیر, mirpurkhas نگاہ ناز اٹھائو تو کوئی بات بنے
دل کو گرویدہ بنائو تو کوئی بات بنے
روز تکتی ہیں نگاہیں یار رستہ تیرا
کبھی تشریف تم لائو تو کوئی بات بنے
آتش عشق میں جل رہا ھے دل اپنا
لب شیرین سے بجھائو تو کوئی بات بنے
جام الفت یوں پینے کی کوئی حسرت ھے
اپنی نگاہوں سے پلائو تو کوئی بات بنے
ہم نے مانا کہ عشق کے رنگ ہیں ھزار
دل کو مجنون گر بنائو تو کوئی بات بنے
ہرطرف پیار کی بارش کا ہو رہا ھے نزول
ساتھ میں مل کر نہائو تو کوئی بات بنے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






