روحِ سخن ہو تُم ہی غزل کا نکھار ہو
Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ, 1e Exloermondروحِ سخن ہو تُم ہی غزل کا نکھار ہو
آئے کبھی خزاں نہ تم ایسی بہار ہو
بھٹکا ہؤا راہی ہوں کسی ریگزار کا
تم ریگزاروں میں بھی شجرِ سایہ دار ہو
مانی تھیں مَیں نے منّتیں کعبے کے روبرو
جنّت وہاں ملے جہاں دیدارِ یار ہو
اب آئے ہو تو سُن لو کہ ہم بھی ہیں راہ میں
رکنا وہیں پہ جس جگہ میرا مزار ہو
میرے پڑوس میں ابھی خالی ہے اک جگہ
نہ نہ خدا کرے تمہیں ڈینگی بخار ہو
نسلِ یہود سے کوئی پوچھے تو با خدا
یہ کیسا استکبار ہے جس پر سوار ہو
ہر چند عقل و خِرد میں حاصل ہے برتری
اور یہ بھی سچ ہے سارے ہی سرمایہ دار ہو
پر دوسرے بھی جینے کا رکھتے ہیں حق ضرور
مفلس ہو کوئی یا کوئی مزدور دار ہو
تم بھی رہو اور اہلِ فلسطین بھی یہاں
کیوں مرنے مارنے پہ ہی سدا بے قرار ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






