خوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھا
Poet: عامر عطا By: مصدق رفیق, Karachiخوشی کا ایک لمحہ چاہئے تھا
گھڑی بھر ساتھ تیرا چاہئے تھا
ملا تھا میں مہینوں بعد تم سے
تمہیں سینے سے لگنا چاہئے تھا
میں دنیا گھومنے بے کار نکلا
تری آنکھوں کو تکنا چاہئے تھا
ہمیشہ ہم نے کی تیری تمنا
ہمیں کب تیرے جیسا چاہئے تھا
تجھے سونپا تھا اپنا آپ میں نے
تو پھر محفوظ رکھنا چاہئے تھا
اسے احوال بتلانا ہے اپنا
کوئی زخمی پرندہ چاہئے تھا
تمہارے عشق نے مارا ہے جس کو
مجھے وہ شخص زندہ چاہئے تھا
دغا کر کے بھی کتنے مطمئن ہو
تمہیں تو ڈوب مرنا چاہئے تھا
اسے بخشا گیا پھر ہجر جس کو
جوانی میں بڑھاپا چاہئے تھا
سبھی اچھے ہوں کب چاہا تھا میں نے
مجھے اک دوست اچھا چاہئے تھا
پھنسے ہیں اب وہی مشکل ڈگر میں
جنہیں آسان رستہ چاہئے تھا
کوئی بیوہ کے دکھ کو کیا سمجھتا
سبھوں کو گھر میں حصہ چاہئے تھا
میں سمجھا وہ مری خاطر کھڑی ہے
مگر اس کو تو رکشا چاہئے تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






