جو حضرت شیخ فرمائیں محبت
Poet: اشرف علی اشرف By: Faizan, Hyderabadجو حضرت شیخ فرمائیں محبت
سبھی کو خوب سمجھائیں محبت
ضروری تو نہیں ہم زندگی میں
محبت کا ثمر پائیں محبت
مجھے گھیرا ہوا ہے نفرتوں نے
نہ دائیں ہے نہ ہے بائیں محبت
ہمارا مشورہ ہے ہر کسی کو
کہ نفرت بیچ کر لائیں محبت
مجھے ہاتھوں کو ان کے چومنا ہے
وہ خوش ہیں کہ جو جو پائیں محبت
نہیں گر لازمی تو اختیاری
نیا مضمون رکھوائیں محبت
وہ جس کے گال پہ چھوٹا سا تل ہے
اسی لڑکی کو سمجھائیں محبت
زمین و آسماں کو چھان مارا
کہاں سے ڈھونڈ کر لائیں محبت
چلو ہم جا کے دلی میں رہیں اب
اگائیں پیار اور کھائیں محبت
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






