محبت کا صلہ کار محبت سے نہیں ملتا
Poet: فرحت احساس By: Wahaj, washingtonمحبت کا صلہ کار محبت سے نہیں ملتا
جو افسانے سے ملتا ہے حقیقت سے نہیں ملتا
میں اس کو اس کے باہر دیکھتا ہوں سخت مشکل میں
کوئی بھی عکس اس کا اصل صورت سے نہیں ملتا
ملاقات اس سے اب تو بالا بالا بھی نہیں ممکن
چھتوں کا سلسلہ ایک اس کی ہی چھت سے نہیں ملتا
کہاں سے لائیں عشق اتنا کہ اس تک بار پائیں ہم
وہ خود بیرون صحرا اہل وحشت سے نہیں ملتا
کہ اب در پیش رہتے ہیں کئی اپنے بھی کام اس کو
وہ پہلے کی طرح اب اپنے فرحتؔ سے نہیں ملتا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






