جنون عشق بڑھا لوں ا گر اجازت ہو
Poet: اے بی شہزاد By: اے بی شہزاد, Ali wahجنونِ عشق بڑھا لوں اگر اجازت ہو
تمھاری شامِ چرا لوں اگر اجازت ہو
نکالنا ہے سبھی دہن سے غبارِ دل
خیالِ یار بنا لوں اگر اجازت،ہو
حسین لگ رہے ہو مہ جین لگ رہے ہو
نقابِ زلف ہٹا لوں اگر اجازت ہو
کریں گے پیار کی باتیں کبھی ملیں گے ہم
وہ عہد اپنا نبھا لوں اگر اجازت ہو
ہوئیں ہیں راحتیں جب ختم غم طویل ملے
فراقِ ہجر منالوں اگر اجازت ہو
بچھڑ گئے نہ رہے زندگی کے وہ ساتھی
چراغ زیست بجھا لوں اگر اجازت ہو
رقیب بن گئے ہیں بد نصیب بن گئے ہیں
کہانی اپنی سنا لوں اگر اجازت ہو
چلے ہیں چھوڑ کے شہزاد جان سے پیارے
میں اپنے اشک بہالوں اگر اجازت ہو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






