جس کی خاطر سارا زمانہ چھوڑ دیا
Poet: عالم نظامی By: مصدق رفیق, Karachiجس کی خاطر سارا زمانہ چھوڑ دیا
اس نے میرا فون اٹھانا چھوڑ دیا
ساری ساری رات ستانا چھوڑ دیا
تم نے کیوں خوابوں میں آنا چھوڑ دیا
ان کی غلط فہمی کو کہاں تک دور کریں
روٹھے ہوؤں کو ہم نے منانا چھوڑ دیا
جب سے حقیقت سامنے آئی خوابوں کی
تصویروں سے دل بہلانا چھوڑ دیا
پوچھ رہی ہیں آ کر موجیں ساحل سے
اس نے کیوں پنگھٹ پر آنا چھوڑ دیا
ہر دن اس کے پاگل پن سے تنگ آ کر
میں نے اس دل کو سمجھانا چھوڑ دیا
دوست بنا کر دھوکہ دیا جب سے اس نے
ہم نے زیادہ دوست بنانا چھوڑ دیا
عالمؔ جن سے مل نہ سکا دل برسوں سے
ہم نے ان سے ہاتھ ملانا چھوڑ دیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






