جد وی اوہداں فون سی آندا
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL, Gujranwalaجد وی اوہداں فون سی آندا
کہندی میرا دل گھبراندا
عشق کلنڈر غور نال تکیاں
وصل دا کوئی دن نہیں لبھیاں
اُتوں ہجر دا دور ستاندا
جد وی اوہداں فون سی آندا
کہندی میرا دل گھبراندا
گھر دے پڑ کے عزت دی آری
کہندے مینوں توڑ دے یاری
بابل واسطہ پگ دا پاندا
جد وی اوہداں فون سی آندا
کہندی میرا دل گھبراندا
عشق دے راہ توں نکھر جاوانگے
لگدا دوے وچھڑ جاوانگے
ملیئے اِسیں کوئی نہیں چاندا
جد وی اوہداں فون سی آندا
کہندی میرا دل گھبراندا
اِک گل وچ سو سسکیاں لیندی
ناں لیکے میرا رو ہی پیندی
حوصلہ میرا ٹٹدا جاندا
جد وی اوہداں فون سی آندا
کہندی میرا دل گھبراندا
کہندی ہجر دا زہر نہیں پینا
نہالؔ ترے توں وکھ نہیں جینا
عشق کیوں عاشقاں نوں آزماندا
جد وی اوہداں فون سی آندا
کہندی میرا دل گھبراندا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






