جام مے ( محسن حججی کی یاد میں)
Poet: میر یاور عباس بالہامی By: Yawar Abbas Balhami, Karachiعاشقوں نے جامِ مے جب پا لیا
دامنِ دل، دہر سے چھڑوا لیا
ہو گئے آمادہ وہ بہرِ وصال
بس اُسی کی فکر میں محوِ خیال
جسم کو قربان گاہ پہنچا دیا
تیغ کا حلقوم سے بوسہ لیا
پانی پانی شرم سے خنجر ہوا
واسطہ کس فرد سے میرا پڑا
پُر سکون خنجر تلے ہوتا ہے کون؟
زیر خنجر مطمئن سوتا ہے کون؟
کس پہ یوں آرام سے دیتا ہے جان؟
کون وہ محبوب ہے یوں عالیشان؟
عشق میں تو باتیں ہی کرتے ہیں سب
لیکن اس عاشق کی حالت، العجب
جب سنی سرگوشی سَر نے تیغ کی
کہہ دیا اک نکتہ بس خاموش ہی
گر تو دیکھے جلوہ اُس معشوق کا
فارغ اِس ھستی سے تو ہو جاے گا
پھر اُسی کے وصل کو ترسے گا تو
بر زبان بس وِرد ہوگا اَللّه ھُو
کہہ کے یہ الفاظ وہ رخصت ہوا
کر گیا پرواز وہ سوئے خدا
میر تُو باتوں میں ہی الجھا رہا
حق کا وہ شیدائی حق سے جا ملا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






