تیری میری پریت امر ہے۔
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad., Calgaryسجن کہ دو زمانے سے
تم ازل سے میرے ہو
ابد تک کے لئے
میں تو وہ وقت ہوں
جس میں جی رہے ہو تم
میں تو وہ خواب ہوں
جو پلکوں پر بن رہے ہو تم
میں تو وہ ساز ہوں
جو چھیڑ رہے ہو تم
میں تو وہ سایہ ہوں
جس سے لپٹ رہے ہو تم۔
میں تو وہ مناجات ہوں
جس کو دہرا رہے ہو تم
میں تو وہ درپن ہوں
جس میں بس رہے ہو تم
میں تو وہ موسم ہوں
جس کی بہار دیکھ رہے ہو تم
غرض تیری ہر سانس میں بسی خوشبو ہوں میں
تیری نظر کی بینائی ہوں میں
تیرے احساس کی روح ہوں میں
اس لئے ہی تو کہتی ہوں
کہ تیری میری پریت امر ہے
تم ازل سے میرے ہو
ابد تک کے لئے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






