جس کو اپنا جانتی تھی اس کی رعنائی گئی
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجس کو اپنا جانتی تھی اس کی رعنائی گئی
ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پائی گئی
اب کسی سے پھر وفاؤں کی امیدیں کیا کرؤں
چھوڑ جاتا ہے مرا جب اپنا رسوائی گئی
نفرتوں کی اپنی دنیا سے بغاوت چھوڑ دو
کہہ گیا ہے آج مجھ کو مری شناسائی گئی
کون جانے کب ختم ہوں زندگی کی سازشیں
جس کو اپنا جانتی تھی اس کی دوہائی گئی
کل تلک جو سیکھتا تھا خود رموزِ شاعری
آج میرے در پہ آ کے اس نے سمجھائی گئی
میرا ہر اک شعر میرے عہد کی آواز ہے
کھو دیا تھا میں نے جس کو اس نے ہے پائی گئی
رنج و غم کی اس زمیں پر دونوں ہی رسوا ہوئے
را س اب آتا نہیں یہ سحر جو آئی گئی
سب نے میرے پیار کی تصویر کو گہنا دیا
تیری اس دھرتی پہ مالک کوئی نہ بھائی گئی
چاہتوں کی وادیوں میں چاہتوں کا زور ہے
چاہتوں کی اس زمیں پہ کون ہے لائی گئی
چھوڑ آئی منزلوں کو اب میں وشمہ کیا کروں
وہ بھی اب افسردہ ہوگا جس نے ٹھکرائی گئی
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا






