تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
Poet: سید نیر مقیت By: Syed Abdu Muqeet, Karachiتھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
جو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہوا
ُاُس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیا
وہ بدن میری تپش سے سر بسر پانی ہوا
وہ جو تھا پیکر میرے پیکر پہ اب وہ ہے وہاں
کیا ہوا جو میرا عشق اک دم سے روحانی ہوا
جم کے ٹوٹا ہے لہو قلب و جگر کی بات کیا
کیوں نہ جانے تیرا موسم مجھ میں برفانی ہوا
آگئی شب صحن میں بیٹھے بٹھائے ایک کشش
ماند سبزہ میرے گھر کا رات کی رانی ہوا
میرے اندر ہو رہی تھی غم کی رم جھم بن رکے
قطرہ قطرہ مل کے دیکھا میں نے طغیانی ہوا
سوچ تک محدود کب تھا ماجرا اس عشق کا
ایک ہی لمحے میں سب کچھ کیفِ نفسانی ہوا
حرف جب حد سے بڑھے تو شعر خود ہی ہو گئے
میرا چپ رہنا بھی میرے حق میں نورانی ہوا
اے خدا کتنوں کے دل میں ہے بسا تیرا یقیں
کیا ستم ہے تو بھی مجھ میں آ کے امکانی ہوا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






