تجھے دیکھنے کی حسرت
Poet: پلک محروم By: PALAK-MAHROOM, [email protected]تجھے دیکھنے کی حسرت ہربار کر رہا ہوں
میں تجھ سے جی رہا ہوں، میں تم پے مر رہا ہوں
تیرے عشق میں، جنوں میں کچھ ایسے کھو گیا ہوں
چندا کو دیکھ دیکھ میں تاروں کو پڑھ رہا ہوں
تیرے عشق کی کشِش نے وہ حال کردیا ہے
کہ میں ناہی جی رہاہوں، اور ناہی مر رہاہوں
کبھی ایسا لگ رہا ہے کہ تم سامنے کھڑے ہو
بہ شوق میں تمھارا دیدار کر رہا ہوں
کب دیکھیں گے تجھے ہم، کب پائیں گے تجھے ہم
یہ سوچ سوچ ہردم میں آہ بھر رہا ہوں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






