تری طرح میں وعدوں سے مُکر جاؤں کیسے
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaتری طرح میں وعدوں سے مُکر جاؤں کیسے
غم کی بزم میں جانِ جاں مسکراؤں کیسے
دیوارِ چین سے بڑی ہیں مجبوریاں میری
آؤں بھی تو میں تجھ تک آؤں کیسے
مسلسل ہو رہی ہے گفتگو دل کی ماضی سے
تری باتیں ، وہ راتیں میں سب بھلاؤں کیسے
میرے آگے کھڑا ہے ہجوم دشمنوں کا
میرے پیچھے ہیں اپنے خود کو بچاؤں کیسے
گونج رہی ہیں کانوں میں صدائیں تری
اتنے شور میں دل غمزدہ کو سلاؤں کیسے
لکھ تو لیتا ہوں میں تری یاد کے افسانے
سازِ جہان کے ساتھ افسانے میں گاؤں کیسے
رونا چاہتا ہوں میں آج تجھ سے لپٹ کر
نہالؔ مگر یہ ارمان بھی پورا کر پاؤں کیسے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






