بے وفا صنم
Poet: کاشف عمران By: کاشف عمران, Mianwaliبے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
جتنا میں نے تجھ کو چاہا
اُتنا تُو نے مجھ کو ستایا
میری محبت کو ٹھکرا کر
کیا کیا تُو نے ہے پایا
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
تیری خاطر سب کو چھوڑا
پھر بھی تُونے دل میرا توڑا
غیروں کی باتوں میں آکر
تُونے میرے دل کو جلایا
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
سکھ چین میرا سب چھین لیا تُونے
ہر موڑ پہ ایک نیا زخم دیا تُونے
بُھول کر سب کچھ لیکن میں نے
جب بھی تُم روٹھے میں نے منایا
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
دل میں میرے صرف تُو ہی سمایا ہے
نشہ تری محبت کا مجھ پہ چھایا ہے
رقیبوں سے لیکن دل کو لگا کر
توُنے ہر لمحہ میرے دل کو دُکھایا
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
بے وفا، بے وفا، بے وفا صنم
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






