بہاؤ تیز تھا دریا الٹ گیا ہوگا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiبہاؤ تیز تھا دریا الٹ گیا ہوگا
زمیں سے پانی مخالف سمت گیا ہوگا
بسر وہ کیسے کرے گا فراق ہجر کے دن
ابھی تو وقت مسافت میں کٹ گیا ہوگا
وہ راستہ تو خطرناک ہے وہاں لٹیرے ہیں
ابھی تلک جو نہیں آیا لٹ گیا ہوگا
نہ انتظار کرو گھر چلے ہی جاؤ تم
نہیں وہ آئے گا اب پیار گھٹ گیا ہوگا
نہیں وہ ہارنے والا ہوا ضرور ہے کچھ
وہ اپنی مرضی سے پیچھے ہی ہٹ گیا ہوگا
نہیں ہوں خوف زدہ موت آنی ہے اک دن
وہاں جو بم پڑا تھا کب کا پھٹ گیا ہوگا
نہیں ہے کوئی تعلق میں جانتا ہوں اسے
وہ اس کے ساتھ تو ایسے چمٹ گیا ہوگا
کرے گا سامنا قانون خود بنائے گا
اصول اپنے پہ شہزاد ڈٹ گیا ہوگا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






