ایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر
Poet: یحییٰ By: یحییٰ, Sahiwalایک اک لمحے کو پلکوں پہ سجاتا ہوا گھر
راس آتا ہے کسے ہجر مناتا ہوا گھر
خواب کے خدشے سے اب نیند اڑی جاتی ہے
میں نے دیکھا ہے اسے چھوڑ کے جاتا ہوا گھر
گر زباں ہوتی تو پتھر ہی بتاتا سب کو
کس قدر ٹوٹا ہے وہ خود کو بناتا ہوا گھر
اس کا اب ذکر نہ کر چھوڑ کے جانے والے
تو نے دیکھا ہی کہاں اشک بہاتا ہوا گھر
اب اسے یاد کہوں یاس کہوں یا وحشت
مجھ کو آتا ہے نظر خاک اڑاتا ہوا گھر
تھک گیا کیا مرے طولانی سفر سے عادلؔ
سو گیا ساتھ مرے مجھ کو سلاتا ہوا گھر
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






