وہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے
Poet: ظریف By: ظریف, Sheikhupuraوہاں شاید کوئی بیٹھا ہوا ہے
ابھی کھڑکی میں اک جلتا دیا ہے
مرا دل بھی عجب خالی ویا ہے
کسی کی یاد نے جس کو بھرا ہے
پرندے شاخ سے لپٹے ہوئے ہیں
یہ کیسا خوف خیمہ زن ہوا ہے
مری خاموشیوں کی جھیل میں پھر
کسی آواز کا پتھر گرا ہے
محبت کا مقدر دیکھتے ہو
ہوا نے کچھ تو پانی پر لکھا ہے
اسی پر کھل رہے ہیں سارے موسم
جو اپنے گھر سے باہر آ گیا ہے
چراغو اب ذرا اپنی سناؤ
ہوا کا کام پورا ہو چکا ہے
محبت پھر وہیں لے آئی عادلؔ
یہ جنگل بارہا دیکھا ہوا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






