اگر وہ چشمِ پُر افسوں نظر بھر کر مجھے دیکھے
Poet: سیف علی عدیل By: سیف علی عدیل , Gujranwalaاگر وہ چشمِ پُر افسوں نظر بھر کر مجھے دیکھے
تو میں دنیا کو، دل کو، خواب کو سب کچھ لٹا دوں گا
گرا دیں گی نگاہیں اُس کی سب دیوارِ امکاں کو
بس اِک لمحہ وہ ٹھہرے، میں زمانہ ہی مٹا دوں گا
کبھی گر شب کے سناٹے میں اُس کی یاد آ جائے
تو میں تاروں سے اُس کے نام کی محفل سجا دوں گا
نہ پوچھو میری تنہائی میں کیسا درد ہوتا ہے
میں اس دل کی صداؤں کو صدا دے کر سُنا دوں گا
اگر وہ پوچھ بیٹھے گا، "محبت کیا حقیقت ہے؟"
میں اپنی خامشی سے اُس کو سب کچھ ہی بتا دوں گا
یہی ہے وصل کی شرطیں، یہی انجامِ دل داری
میں اُس کی اک جھلک پر سیف جیسے کو بھلا دوں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






