ملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے
Poet: آنس معین By: مصدق رفیق, Karachiملن کی ساعت کو اس طرح سے امر کیا ہے
تمہاری یادوں کے ساتھ تنہا سفر کیا ہے
سنا ہے اس رت کو دیکھ کر تم بھی رو پڑے تھے
سنا ہے بارش نے پتھروں پر اثر کیا ہے
صلیب کا بار بھی اٹھاؤ تمام جیون
یہ لب کشائی کا جرم تم نے اگر کیا ہے
تمہیں خبر تھی حقیقتیں تلخ ہیں جبھی تو!
تمہاری آنکھوں نے خواب کو معتبر کیا ہے
گھٹن بڑھی ہے تو پھر اسی کو صدائیں دی ہیں
کہ جس ہوا نے ہر اک شجر بے ثمر کیا ہے
ہے تیرے اندر بسی ہوئی ایک اور دنیا
مگر کبھی تو نے اتنا لمبا سفر کیا ہے
مرے ہی دم سے تو رونقیں تیرے شہر میں تھیں
مرے ہی قدموں نے دشت کو رہگزر کیا ہے
تجھے خبر کیا مرے لبوں کی خموشیوں نے!
ترے فسانے کو کس قدر مختصر کیا ہے
بہت سی آنکھوں میں تیرگی گھر بنا چکی ہے
بہت سی آنکھوں نے انتظار سحر کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






