اپنوں کی محبت میں دھوکا کھایا ہے کہی بار
Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwalaاپنوں کی محبت میں دھوکا کھایا ہے کہی بار
میں نے خود کو اپنوں پہ لٹایا ہے کہی بار
یہ اور بات کہ میں ہار گیا داعو محبت کے
میری آنکھوں نے ساون کو ہرایا ہے کہی بار
تم نے کہا تھا سمجھ جائیگا دل میرا
نہیں سمجھتا کہ میں نے سمجھایا ہے کہی بار
میری چوکھٹ پہ پاؤں رکھے اُسے گزری صدیاں
یوں تو یادوں میں جا کے آیا ہے کہی بار
کنارا نہ کرتے اپنوں سے تو بتاؤ کیا کرتے
پیر ، پیر پہ اپنوں نے ستایا ہے کہی بار
جو لکھا تھا میں نے ترانہ تری الفت کا
ہر پل کے ساتھ اُسے گایا ہے کہی بار
نہالؔ ترے جانے کے بعد کومل گلابوں نے
میری تنہائیوں کا مذاق اُڑایا ہے کہی بار
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






