آنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا
Poet: بانو صایمہ By: مصدق رفیق, Karachiآنکھوں میں جو بسا تھا وہ کاجل کہاں گیا
تھا ضبط جس کے دم سے وہ بادل کہاں گیا
ہم جس کے ساتھ شوق سے نکلے تھے سیر کو
وہ ہم سفر کہاں ہے وہ جنگل کہاں گیا
کرتا تھا شہر میں جو محبت سے گفتگو
معلوم ہے کسی کو وہ پاگل کہاں گیا
موجیں بھی اس کے پاس اٹھیں نظم و ضبط سے
ساحل کی جان تھا جو وہ دیبل کہاں گیا
پھیلی ہوئی تھی جس کے تقدس کی روشنی
آنکھیں تلاش میں ہیں وہ آنچل کہاں گیا
بانوؔ جو غم ملا مجھے قسمت سے اب وہی
لے کر کسی کی یاد مسلسل کہاں گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






