سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال نوجوانوں میں مایوسی اور ڈپریشن جیسے سنگین مسائل کی وجہ قرار

image

سوشل میڈیا سے آج کل ہر کوئی جڑا ہے جہاں وہ مختلف چیزوں کو اپنے سامنے دیکھتے ہیں اور اسی حساب سے پھر ان کے ذہن پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

بتایا جارہا ہے کہ یہی سوشل میڈیا آج کل کے نوجوانوں کے لیے ذہنی دباؤ اور مایوسی کا سبب بن رہا ہے۔

یو ایس سرجن جنرل ڈاکٹر ویویک مورتھی نے کہا کہ بچوں کو سوشل میڈیا کو اجازت دینا ایسا ہی ہے جیسے انہیں غیر محفوظ ادویات کا استعمال کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے میں ناکامی ناقابل یقین ہے۔

انہوں نے یہ تبصرہ ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے حوالے سے کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں 15 سے 24 سال کے افراد میں ناخوشی کا احساس بڑھا ہے۔

رپورٹ میں نوجوانوں میں مایوسی اور ڈپریشن بڑھنے کی وجہ پر تو روشنی نہیں ڈالی گئی مگر یو ایس سرجن جنرل کے خیال میں اس کی وجہ سوشل میڈیا پر بہت زیادہ وقت گزارنا ہے۔

انہوں نے ایک تحقیق کا حوالہ بھی دیا جس کے مطابق امریکی نوجوان اوسطاً روزانہ لگ بھگ 5 گھنٹے سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں۔

ڈاکٹر ویویک مورتھی نے کہا کہ وہ ایسے ڈیٹا کے منتظر ہیں جس سے ثابت ہو سکے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بچوں اور نوجوانوں کے لیے محفوظ ہیں۔

انہوں نے ایسی قانون سازی کرنے کا مطالبہ کیا جس سے نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے ہونے والے نقصان سے بچایا جاسکے۔

خیال رہے کہ سوشل میڈیا کمپنیاں برسوں سے تنقید کی زد میں ہیں کیونکہ انہیں نوجوان نسل کے ذہنی صحت کے مسائل کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔


About the Author:

Zain Basit is a skilled content writer with a passion for politics, technology, and entertainment. He has a degree in Mass Communication and has been writing engaging content for Hamariweb for over 3 years.

مزید خبریں
سائنس اور ٹیکنالوجی
مزید خبریں

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.