امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت دھمکیوں اور امن معاہدے کے دعوؤں کے باوجود جنگی صورتِ حال میں کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آسکی ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک صدر ٹرمپ متعدد بار یہ دعویٰ کرچکے ہیں کہ ایران کے ساتھ معاہدہ چند ہی دنوں میں ہونے والا ہے، تاہم ابھی تک کوئی معاہدہ طے نہیں پاسکا۔ دوسری جانب وہ ایران کو سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہے ہیں اور انہوں نے ایران کو ’مشرقِ وسطیٰ کا غنڈہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران نے مذاکرات میں بہت دیر کردی ہے اور اب اسے اس کی قیمت چکانا ہوگی۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب عمان کے ساحل کے قریب ایک امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرون حملے میں تباہ ہوگیا، جبکہ ایران کی جانب سے کویت، بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں و تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے بھی جاری ہیں۔ جواب میں امریکا نے ایران کے 20 سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جن میں ریڈار اور فضائی دفاعی تنصیبات شامل ہیں، جب کہ پاسدارانِ انقلاب نے بھی امریکا کے 18 اہم اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ قریب ہے لیکن ایران امریکا کو مسلسل ٹال رہا ہے، دوسری طرف انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران پر بمباری جلد ہی روک دی جائے گی۔ اس کشیدگی کے دوران آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے جس کے باعث دنیا کی 20 فیصد سے زائد تیل بردار بحری آمد و رفت متاثر ہو رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ ایک بار پھر ایران کے توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچے پر بڑے حملوں پر غور کر رہی ہے، جبکہ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ امریکی حملوں اور دھمکیوں کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور ایران اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔