ﺧﯿﺎﻝ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ
Poet: منیر نیازی By: khan laghari, khipro sindhﺧﯿﺎﻝ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮭﮯ ﺧﯿﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻣﺠﮭﮯ
ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻣﺠﮭﮯ
ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﺗﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻼ
ﻣﻼ ﺟﻮ ﭘﮭﺮ ﺗﻮ ﯾﻮﮞ ﮐﮧ ﻭﮦ ﻣﻼﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻣﺠﮭﮯ
ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻢ ﺯﯾﺴﺖ ﮐﺎ ﮔﺰﺷﺘﮕﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﯽ ﮨﻮﺍ
ﻋﻤﻞ ﮔﺰﺷﺘﮧ ﺩﻭﺭ ﮐﺎ ﻣﺜﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻣﺠﮭﮯ
ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﺳﺨﺖ ﻭﻗﺖ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﯾﮏ ﻭﻗﺖ ﮨﮯ
ﻧﺸﺎﮞ ﮐﻤﺎﻝ ﻓﮑﺮ ﮐﺎ ﺯﻭﺍﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻣﺠﮭﮯ
ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺍﭘﻨﮯ ﻋﻤﻞ ﮐﺎ ﺣﺴﺎﺏ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺘﮯ
ﺳﻮﺍﻝ ﺳﺎﺭﮮ ﻏﻠﻂ ﺗﮭﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯿﺎ ﺩﯾﺘﮯ
ﻧﮩﺎﻝ ﺳﺒﺰ ﺭﻧﮓ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﺎﻝ ﺟﺲ ﮐﺎ ﮨﮯ ﻣﻨﯿﺮؔ
ﮐﺴﯽ ﻗﺪﯾﻢ ﺧﻮﺍﺏ ﮐﮯ ﻣﺤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼ ﻣﺠﮭﮯ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






