یہ پیار عشق محبت
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiیہ پیار عشق محبت خلوص عام نہ ہوتے
یہ بے تحاشا کبھی شہر میں غلام نہ ہوتے
غریب لوگ کبھی بھوک سے نہ مرتے ادھر پھر
برے اگر یہ حکومت کے انتظام نہ ہوتے
خلوصِ پیار سے گرکام کرتے سب یہاں پر لوگ
رقیب کوئی نہ بنتا یہ انتقام نہ ہوتے
پکار لیتے کسی اور نام سے ہی صنم کو
زبان رد یہ کبھی چرچے ہوئے عام نہ ہوتے
جنونِ عشق میں جذبات اپنے بس میں کہاں تھے
کبھی نہ ہوتی یہ رسوائی ہم کلام نہ ہوتے
کئی دنوں سے ہوں مصروف بعد میں ہی ملوں گا
چلا ہی آتا میں دو چار گر یہ کام نہ ہوتے
گناہ گار لکھے جاتے گر کبھی یہاں عاشق
سنہری لفظوں میں شہزاد پھر یہ نام نہ ہوتے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






