یہ رخ یار نہیں زلف پریشاں کے تلے
Poet: بقا اللہ بقاؔ By: مصدق رفیق, Karachiیہ رخ یار نہیں زلف پریشاں کے تلے
ہے نہاں صبح وطن شام غریباں کے تلے
کیا کریں سینہ جو ناصح سے چھپاتے نہ پھریں
داغ سے داغ ہیں کچھ اپنے گریباں کے تلے
آہ کی برق جو سینے میں چمکتی دیکھی
طفل اشک آ ہی چھپے دامن مژگاں کے تلے
دل میں آتا ہے کروں اے گل خنداں تجھ بن
بیٹھ کر گریہ کسی نخل گلستاں کے تلے
یوں نہاں داغ جگر آہ سے رکھتا ہوں کہ جوں
باد سے شمع چھپاوے کوئی داماں کے تلے
شیخ ڈرتا ہوں کہیں بیٹھ نہ جاوے یہ کنواں
مت کھڑا ہو تو عصا رکھ کے زنخداں کے تلے
نہیں ملنے کی بقاؔ ہم کو بجز کنج مزار
جائے آسودگی اس گنبد گرداں کے تلے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






