یہ حادثہ ہے کہ میں ہوں ترا وصال نہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, Karachiیہ حادثہ ہے کہ میں ہوں ترا وصال نہیں
مگر اے دوست ابھی زندگی محال نہیں
پکارتی ہیں مجھے تلخیاں زمانے کی
یہ سچ ہے دور فغاں میں ترا خیال نہیں
ترے سلوک نے گستاخ کر دیا ہے مجھے
وگرنہ میری طبیعت میں اشتعال نہیں
ترے لیے تو ہیں آنسو بھی پونچھنا مشکل
غریب شہر میسر تجھے رومال نہیں
ہمیں ہو فرصت دنیا کہاں یہ ممکن ہے
وہ الفتوں کا زمانہ وہ ماہ سال نہیں
کیا اس کے چہرے کو دیکھا نہیں کبھی وشمہ
وہ مستحق ہے لبوں پر مگر سوال نہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






