یوں تو ہر مسافر کو تھا اپنے نقصان کا دکھ
Poet: ڈاکٹر عباداللہ ساجد By: ڈاکٹر عباداللہ ساجد, Rawalpindiیوں تو ہر مسافر کو تھا اپنے نقصان کا دکھ
مگر میر کارواں کو تھا پورے کارواں کا دکھ
خرید لایا ہوں میں روٹی انا بیچ کے اپنی
کاش کہ کوئی سمجھے میرے نقصان کا دکھ
کوئی سمجھ سکتا ہی نہیں کسی اور کا دکھ
کسی طوائف سے پوچھ بدن پر نشان کا دکھ
اک شریف زادی جھول گئی ہے پنکھے سے
لاش اس کی سنا رہی تھی بہتان کا دکھ
خدا اتنا بھی نہ بخشے کمینے کو عروج
کہ نظر آئے نہ اسے کسی انسان کا دکھ
دکھ تو دکھ ہے مگر خدا کبھی نہ دکھائے
ماں کو بچوں کا اور بچوں کو ماں کا دکھ
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






