یادوں کے عذاب
Poet: عادل شاہ By: عادل شاہ, Bagalkotیادوں کی دھوپ میں بکھر جاؤں گا
تیری اسی بےرخی سے مرجاؤں گا
چاہت کے سمندر میں طغیانی ہے
ڈوبا تو ساحل سے اُتر جاؤں گا
ٹوٹا ہوا سپنا ہوں تعبیر سے دور
آئینے سے بھی میں مکر جاؤں گا
قلبِ ویران کی صدا کہتی ہے
اک دن تیری راہ میں مر جاؤں گا
احساس کی راکھ بھی اڑی جاتی ہے
میں شعلۂ غم بن کے نکھر جاؤں گا
جب نیند مری ہجر میں چھن سی گئی ہے
تب جاگتی آنکھ سے گزر جاؤں گا
عادلؔ اس کی یاد کا یہ عالم ہے
میں اس کے خیال سے سنور جاؤں گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






