یاد آتا ہے وہی دور پرانا جاناں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلایاد آتا ہے وہی دور پرانا جاناں
جو ترے ساتھ گزارا تھا زمانہ جاناں
اب کسی طور نہ آئے گا ،ستائے گا مجھے
وقت دیکھا ہے جو بچپن کا سہانا جاناں
ایسے چوروں کی مرے دوست یہ خوش بختی ہے
کس نے لوٹا ہے مرے دل کا خزانہ جاناں
میں غزل لکھتی رہی تیری جدائی میں مگر
شہر میں چلتا رہا جنگی ترانہ جاناں
میرے حصے میں جدائی کی مسافت ہے اگر
میرے حصے کا کوئی ہو گا ٹھکانہ جاناں؟
کیسے ڈھونڈوں گی بھرے شہر میں دیکھو اس کو
میری ہجرت میں ہوا گم جو دوانہ جاناں
سامنا موت کا ہو جائے گا وشمہ جس دن
کھیل ہو جائے گا یہ ختم پرانا جاناں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






