ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہر تدبیر کرنے میں
Poet: امید خواجہ By: امید خواجہ , 1e Exloermondہمیشہ دیر کر دیتا ہوں ہر تدبیر کرنے میں
وہ جیسے عدلیہ مجرم کو دارو گیر کرنے میں
ہوئی ہے جا بجا پیوند کاری نظمِ گلشن میں
لگے گی زندگی آئین کی تطہیر کرنے میں
یونہی پل بھر میں اُس کردار کے سارے بھرم ٹُوٹے
بتائی عمر جس کردار کی تعمیر کرنے میں
وہ آج آئیں گے میرے گھر مگر ڈرتا بھی ہوں واللہ
بڑے مشہور ہیں وہ برملا تحقیر کرنے میں
وہ تیرے عارض و گیسو وہ تیری چشمِ زیبائی
زمانہ چاہئے یہ داستاں تحریر کرنے میں
نہیں ہوں صُلح جُو مانا طبیعت بھی ہے سیلانی
تجھے کیا مِل گیا ظالم مری تشہیر کرنے میں
چلو آؤ چلیں امید اس کے گھر پہ دستک دیں
خسارہ ہے وگرنہ بے وجہ تاخیر کرنے میں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






