ہمارے پاس جادوُ کی اگر کویٔ چھڑی ہوتی
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, UKہمارے پاس جادوُ کی اگر کویٔ چھڑی ہوتی
زمانے کی خوشی ہر ایک قدموں میں پڑی ہوتی
ہمیں نہ جھیلنے پڑتے زمانے کے یہ غم سارے
سبھی کچھ ٹھیک کر دیتے اگر مشکل گھڑی ہوتی
پڑی تھی کیا ہمیں جو جاں نچھاور تم پہ کر دیتے ؟
نہ ہوتے پاس تم اتنے ، نہ ساون کی جھڑی ہوتی
نہ دیتے ہم اگر اُن کو اجازت دِل میں آنے کی
چھرُی اُن کے ستم کی آج کیوں دِل میں گڑی ہوتی ؟
میں اپنی زیست کی ہر ایک بازی جیت سکتی تھی
اگر ماں آج کے دِن میرے پہلوُ میں کھڑی ہوتی
چلو اچھا ہے دوُری کا کیا ہے فیصلہ تم نے !
کہ تم سے دوُر جانے میں ہمیں مشکل بڑی ہوتی
جو عذراؔ قیمتی ہوتی تِری چاہت کی نظروں میں
تِرے دِل کی انگوُٹھی میں نگینے سی جڑی ہوتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






