ہمارا پیار ملاقات سے پہلے بھی تھا
Poet: اےبی شہزاد By: اےبی شہزاد, Mailsiہمارا پیار ملاقات سے بھی پہلے تھا
یہ ہجر کرب مصافات سے بھی پہلے تھا
نہیں جو روز ابھی کال آتی اب ان کی
یہ مسئلہ تو شروعات سے بھی پہلے تھا
نہیں جو آتا مجھے ملنے کرکے بھی وعدے
یہی ولی کی کرامات سے بھی پہلے تھا
قبول ہوئی نہیں ہے دعا مرے حق میں
معاملہ بڑے خدشات سے بھی پہلے تھا
کسی کا جل رہا ہے آشیانہ دو دن سے
دھواں یہ گزری ہوئی رات سے بھی پہلے تھا
لٹا رہا ہوں خوشی سے جو اپنی میں دولت
امیر میں برے حالات سے بھی پہلے تھا
نصیب میرے برے ہیں کیا کروں شہزاد
غریب کوئی مری ذات سے بھی پہلے تھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






