ہم نے فرعون کے گھر موسیٰ کو پلتے دیکھا
Poet: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی) By: سید ایاز مفتی ( ابنِ مفتی), Houston TX USAوقت کی چال کو ، جس وقت بھی چلتے دیکھا
ہم نے اپنوں کو بھی غیروں میں بدلتے دیکھا
جب نہ امید کوئی آس نہ لڑنے کی تڑپ
ایسی کشتی کو نہ ساحل پہ پہنچتے دیکھا
اوج ملتی ہے زمیں والو زمیں پر رہ کر
جو شجر جھک گیا پھل اس سے نکلتے دیکھا
حد سے بڑھتا ہے اگر ظلم تو مٹ جاتا ہے
ہم نے فرعون کے گھر موسیٰ کو پلتے دیکھا
اپنی اپنی ہے نظر ، اپنی نگہ اپنا شعور
میں نے گرتے ہوئے اور تم نے سنبھلتے دیکھا
یہ تو اللہ پہ ہے کب مٖٹی کو سونا کردے
ہم نے پل بھر میں نصیبوں کو بدلتے دیکھا
تم نے ویرانیاں جس گھر کا مقدرسمجھیں
ہم نے اس گھر سے ہی اک سایہ نکلتے دیکھا
تیرے اشعار میں کیا بات ہے ایسی مفتی
ہم نے پتھر کو بھی دیکھا تو پگھلتے دیکھا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






