ہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سے
Poet: اے جی جوش By: مصدق رفیق, Karachiہر ملاقات میں لگتے ہیں وہ بیگانے سے
فائدہ کیا ہے بھلا ایسوں کے یارانے سے
کچھ جو سمجھا تو مجھے سب نے ہی عاشق سمجھا
بات یہ خوب نکالی مرے افسانے سے
زندگی اپنی نظر آنے لگی صرف سراب
کبھی گزرے جو دل زار کے ویرانے سے
ایک پل بھی نہ ٹھہر پاؤ گے اے سنگ زنو
کوئی پتھر کبھی لوٹ آیا جو دیوانے سے
تم کو مرنا ہے تو مرنا مرے گل ہونے پر
شمع کہتی رہی شب بھر یہی پروانے سے
پھر نہ دیکھا تجھے اے جوشؔ سکوں سے بیٹھا
جب سے اٹھا ہے تو اس شوخ کے کاشانے سے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






