ہر راستہ ہی پیار کے منظر میں آ گیا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاجب وہ نگاہِ ناز کے دفتر میں آ گیا
ہر راستہ ہی پیار کے منظر میں آ گیا
اس زندگی کے شہر میں نفرت کے باوجود
ہر بار دل یہ پیار کے چکر میں آ گیا
آنکھوں میں دیکھ خواب کی تعبیر کھینچ کر
دریائے درد آج سمندر میں آ گیا
شاید مرے خلوص کا اس پر ہوا اثر
دشمن جو سر جھکا کے مرے گھر میں آ گیا
خواجہ پیا کی ادنیٰ کرامت تو دیکھیے
تالاب ایک چھوٹی سی گاگر میں آ گیا
ایسی خطا بھی کیا ہوٸی مجھ سے جو اے خدا
دنیا کا درد میرے مقدر میں آ گیا
دیکھا جو میں نے پیار سے وشمہ کبھی اسے
وہ دلربا بھی میرے برابر میں آ گیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






