ہر ایک دور میں باطل نے سر اٹھائے ہیں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاجہاں میں زندہ رہیں گے جو جاں لٹا نے کو
ہر ایک ظلم و ستم کا نشاں مٹا نے کو.
وہ ایک عزم کے پیکر و جراتوں کے امیں
چلے تو جبر و سزا کا مکاں گرا نے کو
ہر ایک دور میں باطل نے سر اٹھائے ہیں
ہر ایک دور میں حق کے امام آنے کو
ہر ایک دور میں سنگین واقعات ہوئے
ہر ایک دور میں ہم نے حسین پانے کو
کھڑے ہوئے ہیں وہ پھر ظلم کا نشاں بن کر
ڈتے ہیں ہم بھی یزیدوں کا امتحاں پانے کو
سنو یہ قاتلو تم ! خون اپنی لاشوں سے
خراج لیتا ہے اک عمر کو دکھانے کو
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






