ہر ایک درد محبت کے نام ہوتا ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, منیلاہر ایک درد محبت کے نام ہوتا ہے
یہی تماشا مگر صبح و شام ہوتا ہے
کہیں بھی ملتا نہیں ہے دیارِ خلوت میں
کہ جب بھی اس سے کوئی ہم کو کام ہوتا ہے
کوئی بھی بنتا نہیں دوست ہم غریبوں کا
ہماری سمت سے مثبت پیام ہوتا ہے
جناب شیخ رعونت میں مر نی جائے کہیں
ہمارے ہاتھوں میں الفت کا جام ہوتا ہے
وہ قصر ِ شاہی میں رہتا ہے اپنی راحت سے
غریب خانے میں اس کا قیام ہوتا ہے؟
خدا کا فضل ہے علم و کمال میں اب بھی
جہانِ عشق میں اعلی کلام ہوتا ہے
حصارِ نفرت دورِ جدید میں وشمہ
ہمارے پیار کا سب کو سلام ہوتا ہے
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






